SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم        

                       

ء١۹۹۷  کو ماہنامہ اجرک کی ٹیم نے عالمی روحانی شخصیت حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی سے ایک خصوصی انٹرویو کیا جو کہ قارئین کی نظر کیا جارہا ہے۔

 

ہم اپنے رسالے کے لیے آپ کے ساتھ نشست کرنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ خد ا کے فضل سے ایک روحانی عالمی تحریک کے رہنما ہیں اس رہنما کی حیثیت سے چند ایک سوالات آپ سے کرنا چاہتے ہیں۔

میں پہلے تعارف کرا دوں یہ ہمارے چیف ایڈیڑ ہیں سید نعیم گیلانی صاحب، یہ راحت علی راحت ہیں ہمارے سٹی ایڈیڑ اور میں ہوں چیف بیورو شفقت حسین۔

 

دراصل انسان کی جو تخلیق ہے جسکی سمجھ میں آ جائے نہایت آسان ہے اور جس کی سمجھ میں نہ آئے ایک پیچیدہ سا مرکب ہے۔ لیکن بنیادی طورپر ہر انسان جو ہے وہ رشد و ہدایت کا پیاسا ہوتا ہے، متجسس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہر مذہب میں ہر فرقے میں انسان کو کہیں نہ کہیں، کہیں نہ کہیں جھکتے دیکھتے ہیں۔ کہیں وہ خدا کے آگے جھک رہا ہے، کہیں بتوں کے آگے جھک رہا ہے لیکن 

سیدنا گوہر شاہی:- اللہ کے لیے

 

شفقت حسین:- اللہ کے لیے، لیکن جو مطلب ہمارے نقطہ اسلام سے تو ہم کہتے ہیں اللہ کے لیے لیکن جو ہماری نظر میں غیر مذہب ہے کہیں نہ کہیں وہ بھی جھک رہا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- وہ بھی اللہ کے لیے جھک رہا ہے

 

شفقت حسین:- جھک اللہ کے لیے رہا ہے بحر حال جو معیار مقرر کئے گئے ہیں، ہم دنیا داروں نے مقرر کئے ہیں ان کی روشنی میں چند ایک سوال آپ سے کرنا چاہوں گا۔

شفقت حسین:- شاہ صاحب میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ نفس کیا ہے؟

سیدنا گوھر شاہی:- وضاحت سے بتا دوں جب آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا تھا نا، یہ تو ہماری کتابوں میں، قرآن میں بھی ہے  کہ آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا جو شیطان نے دیکھا نا تو تھوکا تھا نا وہ یہ گڑھا پڑ گیا نا، یہاں تھو ک پڑا تھا، اس تھوک کا جو جراثیم تھا نا، وہ اندر چلا گیا و ہ نفس کہلایا وہ جو جراثیم تھا نا، شیطا نی جراثیم و ہ نفس کہلایا۔ تب حضور پاک صلی اللہ عیلہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے اصحابہ نے پو چھا آپ صلی اللہ عیلہ والہ وسلم کے ساتھ بھی پیدا ہوا تھا فرمانے لگے پیدا ضرور ہوا تھا لیکن میری صحبت سے وہ مسلمان ہو گیا۔ وہ نفس جو ہے نا وہ شیطان کا جراثیم ہے۔ جسم پاک ہے، مٹی بھی پاک تھی، باقی روحیں بھی پاک تھیں، وہ نفس کی وجہ سے یہ جسم نا پاک ہوا وہ جس طرح جن ہیں نا، ہوش و حواص رکھتے ہیں نا اس طرح وہ نفس بھی ہوش و حواص رکھتا ہے اور جب تم خواب میں گھومتے ہو باہر جاتے ہو نا۔ تم تو نہیں جاتے تم تو بسترے میں ہوتے ہو نا وہ تمہارا نفس جاتا ہے وہ شیطانی محفلوں میں گھومتا پھرتا ہے کیونکہ اس میں شیطانی طاقت ہے۔ وہ شیطانی طاقت کے ذریعے وہ شیطانوں میں گھومتا پھرتا ہے۔

 

شفقت حسین:- لیکن اگرخواب میں ہم کسی بزرگ کا دیدار کریں کسی اچھی جگہ جائیں؟

سیدنا گوہر شاہی:- میں بتاتا ہوں وہ اور طاقتیں بھی ہیں تمہارے جسم میں روحانی طاقتیں بھی ہیں، شیطانی بھی ہیں، حیوانی بھی ہیں، روحانی بھی ہیں۔ جو تقویت پکڑتی ہیں نا۔ وہ زیادہ اس طرف رخ ہو جاتا ہے نا۔ کیونکہ اس نفس میں زیادہ طاقت ہے نا۔ وہ اگر آئی ہوگی روحانی وہ کبھی سال میں ایک دو دفعہ ہی آئی ہو گی یہ تو روز ہی ہوتا رہتا ہے نا، اب جو ولی اللہ ہیں اس نفس کو کچلنے کے لیے جنگلوں میں چلے جاتے ہیں کھانے وانے سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ کھانے میں اسکی غذا ہے۔ یہ گند م ہے نا اس میں اسکی غذا ہے تبھی آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا نا، کہ یہ نفس کی غذا ہے نا۔ تو ولی اللہ لوگ اس کو یا تو ختم کر دیتے ہیں یا اس کو نور سے پاک کر لیتے ہیں۔ جب وہ پاک ہو جاتا ہے تو نفس مطمئنہ کہلاتا ہے۔ اگر یہ پاک نہیں ہے تو نفس امارہ کہلا تا ہے لیکن اس میں ہوش و حواس ہے جسطرح جنوں میں ہوش و حواس ہے اس میں ہوش و حواس ہے۔

 

شفقت حسین:- میں ایک اسی سوال کے زمرے میں دوسرا سوال آ گیا کہ تخلیق کائنات، تخلیق انسان ایک ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں جس کا منشا یا انتہاء جو ہے وہ کمال ہے کہ انسان بھی کمال تک پہنچے یہ کائنات پوری کی پوری جو ہمارے ہی فائدے کے لیے پیدا کی گئی خدا تعالیٰ نے پہلے کائنات بنائی پھر ہمیں بنایا تو ایک ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں ساتھ جب ہمیں جب تخلیق کیا تو دو ڈ یوٹیاں دے دیں حقوق اللہ اور حقوق العباد، اب آپ کا جو یہ جو راہ  ِ طریقت ہے بحیثیت انسان میری بھی خواہش ہے کہ میرا اللہ سے قرب ہو لیکن میں ان عوامل سے بھی گزر رہا ہوں جن سے نبی گزرے، پیغمبر گزرے، ولی اللہ گزرے تو ان عوامل کے مناسبت سے میری کچھ ذمہ داریا ں ہیں کچھ میری ذمہ داریاں اللہ کے لیے ہیں، کچھ ذمہ داریا ں بندوں کے لیے ہیں؟

سیدنا گوہر شاہی:-  میں آپکی پوری بات سمجھ گیا، جتنے بھی لوگ یہاں بیھٹے ہوں گے نا، یہ لوگ اپنا کاروبار بھی کرتے ہیں اللہ اللہ بھی کرتے ہیں۔ ان کو ہم نے روکا نہیں ہے نا۔ اب یہ دل اللہ کی طرف لگا لو اور ہاتھ جو ہیں ان کاموں کی طرف لگا لو۔

 

شفقت حسین:- نہیں ہر اب ہر آدمی تو جنگل کا رخ تو نہیں کر سکتا نا؟

سیدنا گوہر شاہی:-  ہم نے ان کو جنگل کا کہا کب ہے کس کو کہا جنگلوں میں چلے جاٴو۔

 

شفقت حسین:- ٹھیک ہےإ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اسی دُنیا میں گھوم پھر کر بھی ہم اللہ کو پا سکتے ہیں؟

سیدنا گوہر شاہی:- پا سکتے ہیں۔

 

شفقت حسین:-  ان ڈیوٹیز میں رہتے ہوئے بھی؟

سیدنا گوہر شاہی:-  جنگل میں کوئی اک آدھ جاتا ہے اللہ تعالیٰ کسی اک کو جنگل میں لے جاتا ہے پھر اس کے ذریعے شہریوں کو ہدایت دیتا ہے نا، پھر شہریوں کو جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے نا، تو پھر ان کے دلوں کو اللہ اللہ میں لگا دیتا ہے نا، دل اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں ہاتھ کام کرتے رہتے ہیں ان کی بیوی بچے بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے کاموں میں برکت ہوتی ہے نا۔ ساتھ اللہ اللہ ہوتا ہے نا، ان کے بچے نیک، سنا بچہ پیدا ہوتا ہے اللہ اللہ کرتا ہے پھر ان کے بچے نیک ہوتے ہیں نا۔ کیونکہ اللہ اللہ ان کے خون میں جاتا ہے نا۔ ہمارایہ مقصد ہے دلوں میں اللہ اللہ کرو۔ دلوں کی صفائی ہو اور باقی حقوق العباد بھی ہیں حقوق اللہ بھی ہیں بعض دفعہ ہم حقوق العباد پر ہم بھی کہتے ہیں حقوق العباد کہتے ہیں اس کو زیادہ ترجیحی دی جاتی ہے نا۔ وہ کس بات پر ترجیحی دی جاتی ہے اگر تو صرف حقوق العباد میں لگا ہوا ہے حقوق اللہ چھوڑا ہوا ہے بیکار ہے۔ ترجیحی کس وقت ہے تو نماز پڑھ رہا ہے اللہ کے حقوق میں لگا ہوا ہے کوئی اندھا گرنے لگا ہے تو نماز کو چھوڑ اُسکو بچا۔ تو نماز یا تلاوت کر رہا ہے تیری بیوی کے پیٹ میں درد پڑگیا اس تلاوت کو چھوڑ دے اسکو ہسپتال لے کے جا۔ اُس کو اللہ معاف کر دے گا تو نے تلاوت نماز چھوڑ دی ۔ اب دردِ زہ ظالم تھا اُسکو معاف نہیں کرے گا۔ یہ     حقوق العباد کی معافی ہے نا۔ تو تم نے صرف حقوق العباد کو لیا ہے حقوق اللہ کو چھوڑ ہی دیا ہے نا ۔ اس وجہ سے اسی طریقے سے ترجیحی ہے حقو ق العباد کی۔

 

شفقت حسین:-  اچھا وہ اطعیو اللل واا طعیو الرسول واولی الامر اطعیو اللل  کی سمجھ لگ جاتی ہے اطعیو الرسول کی سمجھ لگ جاتی ہے؟

سیدنا گوھر شاہی:-  اطعیو اولی الامر وہ جو تمہارے مرشد ہوتے ہیں وہ ہوتے ہیں نا ۔تو وہ اس وقت امیر ہوتے تھے نا، امیر المومنین، اب وہ آمر نہیں رہے نا، بادشاہی سلسلہ جمہوریت کا ہے نا۔ اُس وقت جو روحانی لوگ ہوتے تھے نبی کے بعد پھر ولی ہوتے تھے نا۔ وہ امر میں آتے تھے نا۔ اطعیو اولی الامر۔

 

شفقت حسین:-  اولی الامر کا ہم کیا معیار قائم کریں گے آج بھی موجود ہیں کیونکہ دنیا رُشد و ہھدایت کے بغیر تو نہیں ہے نا؟

سیدنا گوھر شاہی:- لیکن معیار یہ ہے نا کہ چور کو چور پہچانتا ہے ولی کو ولی پہچانتا ہے۔ چور کو وہاں بٹھاٴو ایک چور کووہاں بٹھاٴو نظریں ٹکرائیں گی نا خود بخود سمجھ جائے گا یہ میرا پیٹی بھائی ہے۔ ایک ولی اُدھر ایک ولی ادھر اُن کے دل ٹکرائیں گے نا۔ اس میں بھی اللہ، اسمیں بھی اللہ، رقت پیدا ہوجائے گی نا۔ اُن کو پہچاننے کے لیے تمہارے دل میں اللہ اللہ ہونی چاہیے۔ جب تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی نا۔ تو پھر تم ولی کو پہچان سکو گے ورنہ کبھی نہیں پہچان سکو گے۔ بھئی تیرے دل میں بھی اللہ اُس کے دل میں بھی اللہ دل تو ٹکرائیں گے نا۔ اللہ اللہ تیز ہو جائے گی نا۔ ڈبل طاقت ہو جائے گی نا، پھر اللہ اللہ تیز ہو جائے گی نا سمجھ جاٴو گے روحانی بندہ ہے نا، اسکے لیے حدیث شریف ہے ولی کی پہچان جسکی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے۔ یہ حدیث شریف میں ہے۔

 

شفقت حسین:- جسکو دیکھ کر اللہ یاد آ جائے۔

سیدنا گوھر شاہی:-  اللہ تو لُولے لنگڑے کو بھی دیکھ کر یا د آجاتا ہے۔

 

شفقت حسین:-  یہی تو میں سوچ رہا تھا کوئی بھی چیز خلاف فطرت دیکھ لے اللہ یا دآ جاتا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں اللہ یاد آ جاتا ہے۔

 

شفقت حسین:- نارمل سے ایب نارمل دیکھ لے تو اللہ یاد آ جاتا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:-  نہیں وہ نہیں اللہ اللہ شروع ہو جائے تو اسکی صحبت میں بیٹھتا ہے تیرے اندر اللہ اللہ شروع ہو جاتی ہے ولی ہے وہ کیونکہ اللہ کا تعلق ولی سے ہے نا، تو ولی کا تعلق اللہ کا کس چیز سے ہے؟ دل سے ہے نا۔ دل کو دل سے راہ ہے نا۔

 

شفقت حسین:-  اچھا یہ مُوتیٰ قبل انت مُوتی ٰ ًموت سے پہلے مر جاٴو۔ یہ کیا فلسفہ ہے؟ کیا نظریہ ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- مسکراتے ہوئے یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے لیکن سمجھا دیں تو سمجھ میں آجائے گا۔

 

شفقت حسین:- آپ ارشاد فرمائیں جس نے ہمیں آپکے پاس بھیجا ہے وہ اتنی سمجھ بھی دے دے گا۔ آپ سے ہمارا ملنا کوئی معمولی بات ہے کڑیا ں تو اوپر سے ملتی ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:-  یہ بھی آپ نے سنا ہوگا۔ علم الحجاب الاکبر، بہت بڑا پردہ ہے یہ بھی سنا ہوگا دولت بھی حجاب ہے۔ یہ انسان کے دماغ پہ اک پردہ ہوتا ہے اُسکو حجاب الاکبر بولتے ہیں انسان کو پتہ بھی ہوتا ہے کہ میں نے مرنا ہے اس دُنیا میں رہنا بھی نہیں ہے۔ اس گھڑی کی کوئی اور میری کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ سوچ نہیں سکتا۔ اُس پردے کی وجہ اس کی عقل پر وہ پردہ ہے۔ آپ کو کہا جائے مری چلے جاٴو دو مہینے کے لیے آپ پیسے بھی لیکر جائیں گے، کمبل بستر بھی لے کر جائیں گے صرف دو مہینے رہیں گے کہ مجھے وہاں کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہاں ساری عمر کے لیے لے جائیں گے وہاں آپ کچھ سوچ نہیں سکتے کیوں نہیں سوچ سکتے کیونکہ وہ پردہ ہے نا۔ وہ پردہ کب ہٹتا ہے جب آدمی مرنے لگتا ہے جب آدمی مرنے لگتا ہے جب مرنے لگتا ہے تو شیطان اپنا پردہ ہٹاتا ہے۔ اب کسی دوسرے کے اوپر ڈال دوں گا۔ بچے اور آرہے ہیں۔ لیکن اُس وقت جب، جب وہ پردہ ہٹتا ہے بجائے بغیر افسوس کے اُس کو کچھ میسر نہیں ہوتا۔ جب پردہ ہٹتا ہے پھر وہ کہتا ہے کاش اب مجھے موقع ملے تو میں کر کے دکھاٴوں پردہ ہٹتا ہے تب کہتا ہے جب تک پردہ ہوتا ہے کچھ سوچ نہیں سکتا ہے۔  میں کچھ کر کے دکھاٴوں یا وہ پردہ کب ہٹتا ہے مرنے سے پہلے مر جا۔ اب تو مرتے وقت ہٹانا، حدیث میں لکھا ہے مرنے سے پہلے ہی مر جا۔ یہ تیرا دل ہے یہ مخلوق ہے یہ ذکرکرتی ہے اس کو لگا اس کو لگا اس کو لگا ﴿انسانی لطائف روحانی مخلوقات کی طرف اشارہ کرکے بتایا﴾ اس نفس کو ذکر میں لگا پھر یہ تیرے سر میں اک مخلوق ہے جس کا نام ً اناّ ہے جسکے ذریعے تم سوچتے ہو۔ حیوانوں میں وہ مخلوق نہیں ہوتی ہے وہ سوچ نہیں سکتا ہے نا۔ اگر اس میں وہ سوچنے والی مخلوق ہو تو پانی بھی جنگلوں میں ملتا ہے تو گھاس بھی جنگلوں میں ملتا ہے تو پھر وہ تمہاری غلامی کیوں کریں اُس میں سوچ نہیں ہے نا۔ جب یہ پردہ یا ھو کا ذکر کرتا ہے یہ جو مخلوق ہے  ًیا ھو ً کے ذکرسے وہ پردہ ہٹ جاتا ہے۔ اُس کو مرنے وقت ہوش آیا اس کو مرنے سے پہلے ہوش آ گیا کہ میں دنیا میں کیوں آیا۔ نہیں سمجھے؟ مرنے سے پہلے ہی پردہ ہٹ گیا نا۔ کہ مرنے سے پہلے ہی ہوش آگیا نا کہ میں دُنیا میں کیوں آیا۔ پھر کچھ دُنیا کے لیے کم اور آگے کے لیے زیادہ کرے گا نا۔ ہاں، ہاں مانا ہم دُنیا کے لیے کرتے ہیں لیکن دُنیا کے لیے تھوڑا سا کرتے ہیں نا۔ بال بچوں کے لیے، باقی اللہ کے لیے کرتے ہیں تم بھی کھاتے پیتے ہو ہم بھی کھاتے پیتے ہیں لیکن ہمارا وہ پردہ پھٹ چکا ہے ہم گھر سے پہلے جب اس لائن میں ہم  نہیں آئے تھے بیوی کو بولتے تھے دو دن بعد آ جاٴوں گا ہفتے بعد آ جاٴوں گا۔ اب جب گھر سے نکلتے ہیں کہتے ہیں پتہ نہیں کب اللہ جان لے لے وضو کر کے نکلتے ہیں۔ پردہ ہٹ گیا نا۔ سوچ آتی ہے نا ۔ پہلے سوچ نہیں آتی تھی۔ مرنے سے پہلے یہی ہے کہ مرنے سے پہلے تو اُس پڑدے کو ہٹا تو وہ دماغ کے ذکر سے ہٹتا ہے تب یہ ذکر سکھا ئے جاتے ہیں نا۔

 

شفقت حسین:- اس کا یہ بھی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ جو نفسانی خواہشات تیرے اندر پیدا ہوتی ہیں اُن کو کچل دو۔

سیدنا گوہر شاہی:- لیکن وہ کچلی نہیں جا سکتیں نا وہ انہیں چیزوں سے تو کچلتی ہیں وہ نار ہے جب تک نور نہ ہو کیسے کچلیں جائیں گی۔ ہم اپنا تجربہ بتاتے ہیں ہمیں شیطانی خواہشات وسوسے سب کچھ سارا دن رات سوتے تھے تو وہ آ تا تھا نا بھئی وسوسوں اور شیطانی خیالوں میں لیکن جب یہ اللہ اللہ کا نسخہ پایا نا، تو سب کا فور ہوگیا نا اب اگر کبھی کوئی سوچ آتی بھی ہے تو کہتے ہیں جو اللہ کرے گا ہو جائے گا بس سوچنے کی کیا ضرورت ہے یہ اللہ اللہ ہتھیار ہے نا س چیز کا۔ یہ وسوسوں کو بھی اور اُس پردے کو کاٹنے کا ہتھیار ہے۔  ً اللہ اللہ ہے ً اللہ اللہ نہیں ہے تو وسوسے نکل نہیں سکتے۔ وسوسوں کا تعلق شیطان سے ہے اور جو دلیل ہے نا منجانب اللہ اُس کا تعلق جو ہے نا وہ اللہ سے ہے وہ قلب میں اُترتی ہے۔ وہ نفس میں اُترتی ہے۔ جب تیرا نفس پاک تے قلب بھی صاف تو کدھر سے وسوسے آئیں گے۔

 

شفقت حسین:- اچھا ایک سوال پیداہوتا ہے آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ اللہ جسکو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ میں ایک گناہ گار آدمی ہوں میرا جی چاہتا ہے۔ یعنی آ پ نے کہا کہ

سیدنا گوہر شاہی:- جس کو وہ چاہتا ہے، جب وہ چاہتا ہے۔

 

شفقت حسین:- میں بھی اللہ اللہ شروع کرتا ہوں لیکن جاری نہیں ہوتا۔

سیدنا گوہر شاہی:-  اس کا مطلب ہے اللہ نہیں چاہتا۔ اب رہا سوال تمہارے لیے کیوں نہیں چاہتا۔

 

شفقت حسین:- اب میرا قصور کیا ہے۔ میرے بس میں تو یہ تھا نا کہ کوشش کروں، نیت کروں۔

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں تمہارا بڑا قصور ہے نا اب تم بتاٴو تم ہو اصل یا تمہارے اندر ہے وہ اصل ہے؟

 

شفقت حسین:- اندر والا اصلی ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- تم تو مٹی میں مل جاٴو گے نا وہ تو مٹی میں نہیں ملے گا وہ پہلے بھی تھا آخر میں بھی رہے گا وہ جو وہاں رہ کر آیا ہے نا اوپر وہ  اندر والا اُسکی تکمیل ہو رہی ہے نا۔ نہیں سمجھے جب اللہ تعالیٰ نے روحیں بنائی تھیں نا تو پوچھا تھا ۔الست بربکم ﴿کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں﴾ قالو بلیٰ ﴿سب نے اقرار کیا تھا تو ہی ہمارا رب ہے﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے لذات دکھائے بہت سی روحیں وہ دُنیا کے لذات کی طرف لپکیں وہ اُن کی قسمت بن گئی لکھ لیا بہت سی روحیں اللہ کی طرف لپکیں وہ اُن کی قمست بن گئی بہت سی روحیں نیوٹرل نہ ادھر نہ اُدھر ان کے لیے ولی آئے وہ جو نیوٹرل تھیں۔ اب رہا سوال اگر اللہ چاہتا تو یہاں سے جس کو چاہتا ہے دوزخ بہشت میں بھیجتا ہے تووہیں سے بجھیج  دیتا نا یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ بھئی یہاں سے بھی روحیں جائیں گی نا اُدھر جسم تو نہیں جائیں گے نا تو پھر ان جسموں میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی لیکن جس کو پھر وہ دوزخ میں بھیجتا تو وہ کہتا اے اللہ میں نے کیا کیا تھا؟ اللہ کہتا تو نے یہ اقرار کیا تھا صرف اقرار کیا تھا نا عمل تو نہیں کیا تھا نا۔ اُس عمل کے لیے اللہ تعالیٰ روحوں کو نیچے لایا پھر جب کیا، کیا تو نے عمل بھی تو کیا تھا نا یہ جسم اُن کے عمل کے لیے حجت تمام کرنے کے لیے ورنہ وہ رحیں نہ عورتیں ہیں نہ مرد ہیں۔ نہ عورتیں تو نا مرد اُن سے حساب کتاب کیا یہ جسم اُس کے لیے مثل بنایا گیا اس میں لذات ڈالے گئے اس میں نفس ڈالا گیا یہ پیچھے کا سودا ہے پھر جن کو جنہیوں نے دُنیا مانگی شیطانی لذات میں جب وہ بچہ پیدا ہوا تو دو شیطان لگا دئے کہ اس کو نیکی کی طرف جانے ہی نہ دوں ایسے لوگ ہیں نا۔ اُسی کا بھائی اُس روح نے اللہ طلب کیا اس کے ساتھ دو فرشتے لگا دئیے کہ اس کو برائی کی طرف نہ جانے دوں کیا وجہ ہے ایک ہی باپ ہے یہ نیکی میں چلا گیا وہ برائی میں چلا گیا اس کے ساتھ فرشتے لگ گئےاُس اقرار کے مطابق اس کے ساتھ شیطان لگ گئے اُس اقرار کے مطابق اور یہ تھا جس نے اقرار کیا ہی کوئی نہ، موقع نہ ملا پھر اُس کے لیےولی بنا کر بھیج دئیے بھئی وہ تو دوزخی اوپر سے ہی ہے نا، وہ بہشتی اوپر سےہی ہے نا۔  اب اِن نیوٹرل والوں کےلیے پھر یہ جو ہے نا کفر اور اسلام کے درمیان چلتا ہے۔ حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں صبح مسلمان تو شام کو کافر یہ جس سوسائٹی کے ہاتھوں آگیا وہیں کا ہو گیا نا ہدایت تو پھر اس کو ہے۔

 

شفقت حسین:- شاہ صاحب بشر اور خدا ایک عام سا تصور ہے سب جا نتے ہیں۔ بشر جو ہے وہ افضل البشر کب ہوتا ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- انسان افضل ہی ہے اگراس میں اللہ آ جائے تو اگر اللہ نہیں ہے تو ارزل ہے۔ اگر اس میں شیطان آ جائے توارزل ہے اللہ آ جائے تو افضل ہے۔ رہا سوال حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم  کو افضل البشر بھی کہا گیا معراج سے پہلے آپ صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کو افضل البشر کہا گیا ہے پھر جب آپ کا معراج ہوا نا، معراج سے پہلے آپ کا سایہ تھا جب آپ کا معراج ہوا، لوہا آگ میں جاتا ہے تو وہ بھی آگ بن جاتا ہے۔ جب آپ نور کے سامنے گئے نا آ پ صّلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی نور ہو گئے۔ معراج کے بعد آپ کا سایہ ہی کوئی نہیں تھا۔ بھئی اگر پہلے سایہ نہ ہوتا تو بچپن میں پتہ چل جاتا نہ مائی حلیمہ نہلاتی دھلاتی پتہ چل جاتا نا۔  لوگ پہلے پتہ چلا لیتے۔ معراج کے بعد آپ کا سایہ نہ تھا آپ نور ہوگئے تھے نا۔ اس سے پہلے آپکو افضل البشر کہہ سکتے ہیں۔ اُس کے بعد آپکو نور ہی کہنا پڑے گا نا۔ وہی جو لوہے میں طاقت آگئی آگ میں جا کر۔ وہی آپ صّلی اللہ علیہ والہ وسلم میں طاقت آگئی نور میں جا کے۔

 

شفقت حسین:- اچھا شاہ صاحب اب میں آ رہا ہوں خالصتاً آ پ کا جو اہل تصوف ہے ذرا اُسطرف میں آ رہا ہوں ہماری یہ گفتگو جو ہم یہ کر رہے ہیں کچھ گفتگو ہے

  On The Record

کے لیے اور کچھ گفتگو ہماری اپنی ذات کے لیے ٹھیک ہے لہذا میں کوشش کروں گا کہ جو میرے ذہن میں وہ ادھیڑ پن ہے وہ تھوڑی کلیئر ہو۔ ایک عشق مجازی ہے ایک عشق حقیقی آپکا سفر عشق حقیقی کا ہے آپ سے پہلے جو ہستیاں ہو گذریں یا جن کے آپ پیروکار ہیں انہوں نے جو ہمیں درس دیا۔

سیدنا گوہر شاہی:- عشق مجازی کا۔

 

شفقت حسین:- عشق حقیقی کا عشق مجازی تو دنیا داری ہوئی نا۔

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں نا عشق مجازی کو تو تم سمجھتے بھی نہیں ہو نا۔ یہ جو دُنیا کا عشق ہے نا عشق نفسانی کہلاتا ہے نہیں سمجھے۔ تم نفس کی خاطر ایک دوسرے سے پیار کرو، یا پیسہ ہوگا یا کوئی اور لالچ ہوگی اگرنہ پیسہ ہوگا اور نہ کوئی اور لالچ تو تمہیں اس سے کیا مطلب تم تو پیچھے ہٹ جاٴو گے نا۔ یہ عشق نفسانی کہلاتا ہے عشق مجازی جو ہے نا وہ ولایت کا حصہ ہے۔ وہ لیلی مجنوں کو تھا اکیلے رہ کر بھی بہن بھائیوں کی طرح رہے وہ اُن کا عشق مجازی تھا۔ جب مرزا صاحبہ آئے نا اُن سے شیطانی ہوئی نا۔ تو اللہ نے عشق مجازی ختم کر دیا اب عشق مجازی کوئی نہیں ہے۔

 

شفقت حسین:- اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو مجاز کا مطلب اُلٹ اور اُلٹ ہمیشہ اس کا ہو گا جس کا کوئی اصل ہوگا۔

سیدنا گوہر شاہی:- اصل ولایت، ولایت کا اُلٹ عشق مجازی ہے عشق حقیقی کا عشق مجازی اگر اس کا بندے سے عشق ہو گیا۔ نفس کا تعلق نہیں ہے وہ عشق مجازی ہے۔ اللہ سے ہوگیا عشق حقیقی ہے۔

 

شفقت حسین:- عشق حقیقی اچھا میں بھی اُسی طرف آرہا ہوں عشق حقیقی کے اہل تصوف نے تین درجے بتائے ہیں عام طورپر جو ہمیں اسٹڈی میں ملتے ہیں۔ فنافی الشیخ، فنافی الرسول، فنافی اللہ۔ فنافی اللہ جو ہے ایک عام مسلمان کے سمجھ میں آ جاتا ہے میرے سمجھ میں بھی آ جاتا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- فنافی الشیخ نہیں آئے گا۔

 

شفقت حیسن:-  فنافی الرسول بھی آ جاتا ہے کہ وہ سردار الانبیاء ہیں اور تمام کائنات جن و بشر جو کچھ ہے وہ سب اُن صّلی اللہ علیہ والہ وسلم              کے احترام و مقام کے معترف ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں صیح ہے۔ ٹھیک ہے۔

 

شفقت حسین:- ٹھیک ہے جی لہذا میں بھی اُن کا احترام کرتا ہوں فنافی الرسول اگر ہو جاٴوں تو میرے جیسے بخت کس کے۔

سیدنا گوہر شاہی:- فنافی الشیخ سمجھ میں نہیں آتا۔

 

شفقت حسین:- اچھا فنافی الشیخ جب اسٹیج آتی ہے تو فنا کے جو ظاہری معنی میرے سامنے آ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ میری ذات گم ہو جائے اُسکی ذات حاوی ہو جائے۔

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں اُس کا مقصد یہ نہیں جو آپ نے سوچا نا فنا، وہ مقصد نہیں، شیخ جو ہوتا ہے نا وہ اُس کے اندر کچھ مخلوقیں ہوتی ہیں۔ تمہارے اندر بھی ہیں۔ ہاں سات مخلوقیں ہیں، ۹ جُسّے ہیں، ١٦ مخلوقیں ہیں وہ ان مخلوقوں کو تربیت دیتا ہے جسطرح خواب میں تمہاری اک مخلوق باہر نکل جاتی ہے۔ پھر اپنی سب مخلوقوں کو خواب کے ذریعے باہر نکالتا ہے اس کا ایک عمل ہے وہ چلہ ہوتا ہے کاٹنے کے لیے ہوتا ہے ورنہ عبادت تو گھر میں بھی ہوجاتی ہے نا پھر گھر سے باہر نکلنے اور جنگلوں میں جانے کی پھر کیا ضرورت ہے وہ پاگل تو نہیں ہوتے جو مُڑ کے شعر و شاعری کرتے ہیں لوگوں کو چلاتے ہیں وہ پاگل تو نہیں ہوتے نا۔ وہ صرف ان مخلوقوں کو باہر نکالنے کے لیے جنگلوں میں جاتے ہیں کھانا پینا کم کر دیتے ہیں۔ اللہ اللہ زیادہ کرتے ہیں کہ نوری طاقت آئے اس کے لیے مجدد صاحب کا بھی واقعہ ہے کہ کسی نے کہا میں نے فلاں دن آپ کو خانہ کعبہ میں، کسی نے کہا آپ کو دیکھا آپ نے فرمایا میں نہیں گیا۔ دوسرے نے کہا اُسی دن حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضے پر دیکھا آپ نے فرمایا میں نہیں گیا۔ تیسرے نے کہا اُسی دن غوث پا ک رضی اللہ عنہ، کے روضے پر دیکھا آپ نے فرمایا میں نہیں گیا لوگوں نے پوچھا کیا تھا فرمایا میرا اندر تھا حدیث شریف میں بھی ہے کہ جب حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم معراج شریف پر گئے موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرے دیکھا موسیٰ علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اوپر گئے دیکھا موسیٰ علیہ السلام اوپر بھی موجود ہیں یہ باطنی مخلوقیں ہیں۔ شیخ وہ ہوتا ہے جسکی یہ باطنی مخلوقیں ہوتی ہیں، پھر جب تم شیخ کو پکارو گے تو جسم نہیں جائے گا اُسکی ہوگی کوئی باطنی مخلوق جن فرشتے کی طرح شکل اختیار کر لیتی ہے وہی طاقت اختیار کر لیتی ہے وہ اُسکی مدد کو پہنچے گی۔ پھر وہ مخلوق جب تمہارے جسم کے اندر داخل ہو جائے گی سنا ہے جن داخل ہو جاتے ہیں سنا ہے نا اسی طرح وہ مخلوق بھی داخل ہو جاتی ہے نا۔ جب وہ شیخ کی مخلوق تیرے اندر داخل ہو جائے گی تو تیری شکل حلیہ وُلیہ بول چال سب شیخ کی طرح ہو جائے گا نا۔ اُس وقت کہتے ہیں فنافی الشیخ، نہیں سمجھے اُس وقت کہتے ہیں فنافی الشیخ۔

 

شفقت حسین:-  یعنی شیخ کی ذات سرایت کر جاتی ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- ذات وہ مخلوق۔

 

شفقت حسین:- یعنی اُسکی وہ صفات اُسکا کریکڑ اُسکی تربیت۔

سیدنا گوہر شاہی:- تربیت بھی نہیں وہ مخلوق جس طرح وہ جن سمجھ، فرشتہ سمجھ بس وہ اُسکے اندر چلا گیا اب وہ ہر وقت نہیں رہتا ہے۔ ایک دن رہے، دو دن رہے تین دن رہے ایک لمحہ رہے اُسکی مرضی ہے۔ اسی طرح حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بھی مخلوقیں ہیں نا جب کسی کے اندر داخل ہو جاتی ہیں نا اُسکو فنافی الرسول کہتے ہیں یہ جو تمہارے نبی کا کہتے ہیں دعوی اُس نے ﴿یوسف لاہوری نے﴾ نبوت کا دعوی نہیں کیا اُس میں یہ تھا کہ تسلسل ہے۔

 

شفقت حسین:- یعنی فنافی الرسول کی اسٹیج پر ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- فنافی الرسول کی بات کری تھی اُس وقت جب وہ حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کوئی چیز جسم میں داخل ہوتی ہے تو باطن فرشتوں کو وہ حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی لگتے ہیں نا نہیں سمجھے پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کوئی چیز ہے اُسکا نام جُسّہ توفیق الہیٰ جب ولیوں، نبیوں میں اتنی طاقتیں ہیں تو اللہ میں طاقت نہیں ہوگی اُسکی چیز ہے اُس کا نام ہے جُسّہ توفیق الہیٰ وہ تمہارے جسم  میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر اُس وقت نکلتا ہے منہ سے نکلتا ہے انا الحق میں اللہ ہوں اُس وقت اُس کے منہ سے نکلتا ہے انا الحق۔ بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کہا تھا اُس وقت کہا تھا۔ اُس وقت کہا تھا نا جب بعد میں ہوش آیا کہا اگر میں کہوں دوبارہ، قتل کر دو تو لوگوں نے قتل کرنا چاہا نا تو پوچھا تو پوچھا قتل کیوں نہیں کیا کہ تم قتل ہوئے نہیں پھر بایزید ہوگا نہیں، وہی ہوگا جو بول رہا ہو گا نا۔ وہ فنافی اللہ کا اسٹیج ہے اب وہ فنافی اللہ بھی ہر وقت نہیں رہتا ہے وہ بھی ولیوں میں کبھی کبھی آتا ہے وہ چیز آتی ہے۔ پھر اُس میں ولیوں کو جو الہام ہوتے ہیں منہ سے باتیں نکلتی ہیں نا وہ اُسی اسٹیج میں نکلتی ہیں نا۔ اُس وقت جو اُن کی نظروں میں آگیا اللہ کی نظروں میں آگیا۔ اُس وقت جب سلطان صاحب نکلتے تھے اپنے گھر سے باہر جب وہ اُن کی حالت ہوتی نا تو جو ہندو اُن کو دیکھتا ناغور سے دیکھتا اُن کو، کلمہ پڑھنا خود بخود شروع کر دیتا یہ سلطان صاحب کی کتابوں میں ہے۔

 

شفقت حسین:- شاہ صاحب انسان کی ذات میرے نزدیک بڑی معتبر ہے ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا، علماء سے سنا کتابوں میں پڑھا حتیٰ کہ قرآن میں پڑھا کہ رب کو پہچاننا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو پہچان۔

سیدنا گوہر شاہی:- اپنے آپ کو نہیں پہچان رب کو پہچاننا ہے تو اپنے نفس کو پہچان ہاں۔

 

شفقت حسین:-  ہاں ﴿سوری﴾ اپنے نفس کو پہچان اب جو میرا نفس ہے میں اور میرا نفس لازم و ملزوم ہیں جب تک میری سانسیں ہیں گویا میں کسی طرح سے اہم ہو گیا اب مجھے اسٹڈی کرنی ہے اپنی اپنے نفس کی، خدا کی ذات کی اسٹڈی کرنے کے لیے خدا کو پہچاننے کے لیے۔

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں نہیں پھر اُس کاعلم ہے نا وہ علم  طریقت ہے نا ۔

 

شفقت حسین:- علم طریقت إ میں یہ کہنا چا رہا ہوں کہ مجھ جیسا سیچویٹر تو کافر بھی ہے نفس اُس کے ساتھ بھی ہے۔ ہندٴو کیساتھ بھی عیسائی کے پاس بھی ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- جس کا نفس نا پاک کتا ہے وہ نا پاک ہے بھلے وہ عیسائی یا بھلے مسلمان ہے صرف زبان پاک ہے اندر سے تو پاک نہیں ہے طوطا ہے نا وہ صرف طوطا ہی نا، وہ طوطا ساری عمر اللہ اللہ بھی کر تا رہے طوطا ہی رہے گا مکروہ ہی ہے نا جب تک یہ دل تیرے اندر اللہ اللہ نہیں جائے گا نا پکا مسلمان نہیں ہو سکتا نا۔ اب وہ علم سیکھو جس سے تم نفس کو پہچانو جب تم نفس کے اوپر ضربیں لگاٴو گے نا۔ اس کا مقام دیکھو کہ وہ کس جگہ ہے پھر جب اُسکی وہ دوائی دو گے نا وہ حرکت کرے گا نا تو پھر اُسکی شکلیں تمہیں دکھائی جائیں گی نا۔ پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ ایک کتا گھوم رہا ہے۔ کسی کو خواب میں دکھائی جاتی ہیں کسی کو آنکھیں بند کر کے کشف میں دکھائی جاتی ہیں پھر جب تم لگے رہو گے پھر تم کو دکھایا جائے گا اب وہ کتا کمزور ہوگیا پھر دکھایا جائے گا اُسکی شکل بیل کی طرح ہوگئی  اُسکی شکل بکرے کی طرح ہوگئی یہ ساتھ ساتھ دکھا یا جاتا ہے یہ تمہارے مرشد کا کمال ہے جب تک مرشد نہیں پکڑو گے یہ بات تو نہیں ہوگی نا۔

 

شفقت حسین:- اچھا میں چاہتا ہوں کہ یہ بچوں کو چھوڑنا، ماں باپ کو چھوڑنا والدین کو چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے لیکن میں اللہ کو بھی چاہتا ہوں ممکن ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- ممکن ہے اُس کا یہی ہے یہ تمہارے دل کی دھڑکن خالی بچوں میں رہتے ہو، یا سوتے ہو یا چلتے ہو ٹک ٹک تو ہو رہی ہے نا بس وہ ٹک ٹک کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لو کام وہی سارے کرو اُس ٹک ٹک کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لو بس اللہ مل جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کا تعلق اُن سے نہیں ہے اللہ کا تعلق دل سے ہے نا وہ تسبیح ہے نا تمہارے اندر اُس تسبیح کو اللہ میں، بُلھے شاہ فرماتے ہیں نا  ًساڈے دل دا منکا اللہ اللہ کردا ً ۔ اس کو اللہ اللہ میں لگا لو بس باقی وہی کام کرو پھر جوں جوں اللہ اللہ جاتی جائے گی نا  پھر خود بخود تمہارا دل، محبت اللہ کی طرف ہوتی جائے گی نا اب تو نہیں ہوگی۔ پھر یہ ہے کہ ہمارے بھی بچے ہیں بیوی بچوں کا خیال بھی کرتے ہیں لوگوں کا بھی خیال کرتے ہیں اس کا بھی ﴿دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے﴾ خیال کرتے ہیں کہ یہ بھی بند نہ ہو یہاں بھی اللہ اللہ ہوتی رہے تو پھر وہ اسٹیج آگئی، گاڑی چلاتے رہیں، سوتے رہتے ہیں اللہ اللہ ہوتی رہتی ہے۔ اسٹیج آ جاتا ہے نا۔ پھر اللہ اللہ کے ساتھ اب کہتے ہیں بسم اللہ کرو کام کرنے سے پہلے برکت ہوگی۔ کام کرنے سے پہلے بھی اللہ اللہ کام  کرتا بھی اللہ اللہ پھر برکت ہی برکت ہے نا جی۔ ایسا ہوتا ہے نا۔ ہو سکے اس کے لیے آپکو کوئی ٹائم دینا پڑے گا ہم دو چار دن تم کو رکھیں گے یا بتائیں  گے۔ ایسا طریقہ کرو ہم بھی توجہ ڈالیں گے ایسا ہوتا ہے تو تب آج لاکھوں لوگ لگے ہوئے نا ہمارا کون سا کمال ہے۔ پیروں سے داڑھی بھی چھوٹی ہے ہماری، جُبّہ وُبّہ بھی نہیں کوئی، دستار بھی کوئی بھی کوئی نہیں کیوں جی۔

 

شفقت حسین:- جو کچھ آپ کے بارے میں سنا تھا اُس سے بالکل ہٹ کر مطلب پایا آپ کو، کوئی ایسی روایتی بات نہیں ہے کوئی مطلب فارمولا باتیں نہیں ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:- بس یہ بات ہے کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ اللہ میں لگا دیتے ہیں یہ  بات ضرور ہے اس کے لیے کوئی بھی آئے تجربہ کر لے اگر اللہ نے نہ بھی چاہا تو تجرباتی طورپر اللہ اللہ میں چلا دیں گے دو چار دن کے لیے تاکہ اُسکی تسلی تو ہو جائے نا۔ وہ سلطان صاحب نے جب عبدالرحمان صاحب سے یہ علم سیکھا۔ نا ، تو کہنے لگے کہ مجھے کیا پتہ کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ اللہ ڈالو۔ ان کے اندر تو کتے ہیں سارے یہ کتے کیسے اللہ اللہ کریں گے۔ ایک کتا سامنے آیا اُس پر نظر ڈالی تو وہ اللہ اللہ کرنی شروع کر دی تو فوراً یہ خبر حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم تک پہنچ گئی تو بلایا گیا یہ کیا کیا تو نے کہ میں تجربہ کر رہا تھا اگر یہاں کامیاب ہو گیا اس پر کامیاب ہو گیا تو وہاں بھی کامیاب ہو جاٴوں گا۔ ایسے تجربے ہم بہت کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

 

شفقت حسین:- ایک چھوٹا سا سوال کہ ایک تعظیم ہوتی ہے ایک عبادت ہوتی ہے تعظیم اور عبادت میں کتنا فرق ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- بے ادب بے مراد، با ادب با مراد، اگر عبادت کیساتھ ادب بھی ہے تو با مراد ہے۔ اگر عبادت کیساتھ ادب نہیں ہے۔ خانہ کعبہ جاتے ہیں دیکھے ہیں نا۔ لیٹے ہوئے ہیں تو کتاب کی طرح قرآن مجید پڑرہے ہیں نیچے رکھ کر سور ہے ہیں یہ بے ادب بے مراد خانہ کعبہ میں ہو کر بے ادب بے مراد۔ محمور غزنوی ایک گاٴوں میں گیا لڑائی ہو رہی تھی ایک اُسکو کمرہ ملا جی رات رکنے کے لیے سویا تھکا ہوا تھا اوپر دیکھا قرآن پڑا ہوا ہے اُس نے کہا یہ قرآن مجید میں نیچے سو جاٴوں۔ وہ ساری رات کھڑا رہا اللہ نے اُسکو ولایت میں رنگ دیا۔ با ادب با مراد۔ وہ خانہ کعبہ میں جا کر بے ادب بے مراد۔ بات سمجھ  میں آگئی نا جی۔

 

شفقت حسین:- یہ ہم جو گھومتے رہتے ہیں سارا دن آپ کے ساتھ بیٹھے اُس کے ساتھ بیٹھے، اُس کے ساتھ بیٹھے کہیں سے کوئی ایجوکیشن لی کہیں سے کوئی نظر یہ ملا کہیں سے پلس ملا کہیں سے مائنس ملا تو ملے جلے خیالات، رحجانات، نظریات پیدا ہو جاتے ہیں خیر میں اُس ملی جلی کفیت میں، میں چلا گیا ، دھمال ہو رہی تھی اور اس دوران ایک آدمی تھا بڑا جذباتی ہو کے کہہ رہا تھا روضے کیطرف دیکھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا بھر دے بھر دے تو میرا دھیان اُسکی طرف بھی جا رہا تھا پھر وہ سجدہ ریز بھی ہوا کبھی سجدہ کرتا، کبھی اُٹھ کے دھمال ڈالنے لگ جاتا اچھا اب وہ ہے اک شاعر کا خیال لیکن مشکل بہت ہے جو اُن کو جو رکھتے ہیں آگہی کہ تھوڑی بہت سوجھ بوجھ اللہ نے دی ہوئی ہے میں اب شش و پنج میں پڑ گیا کہ یہ سجدہ اس نے کس کو کیا ہے اللہ کو کیا ہے یا اس کو کیا ہے اور بعض لوگ مطلب کہتے ہیں یہ مزاروں پہ جانا وہاں پر دعا منت کرنا اور سجدہ وغیرہ کرنا یہ کیا سلسلہ ہے کہا ں تک درست ہے اور کہاں تک غلط ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:-  نہیں دیکھیں کچھ باتیں ایسی ہیں اک سجدہ تعظیمی ہوتا۔

 

شفقت حسین:- میں نے پہلا سوال یہی کیا تھا تعظیم اور عبادت میں کیا فرق ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- اک سجدہ تعظیمی ہوتا ہے اور اِک سجدہ عبادت کا ہوتا ہے یہ جو وہاں کرتے ہیں نا یہ سجدہ تعظیمی کرتے ہیں۔ نماز کی طرح جس طرح سجدہ کرتے ہیں وہ سجدہ نہیں کرتے اس میں سر کو ٹیکتے ہیں سر کو ٹیکتے ہیں۔ سر کو ٹیکنا اور ہے عبادت والا  سجدہ اور ہے اُس میں سبحان ربی الا علیٰ پڑھتے ہیں اس میں نہیں پڑھتے ہیں اس میں اپنے سر کو ٹیک دیا کہ میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کر دیا اس کا یہ مقصد ہے یہ مولا علی کے زمانے میں سجدہ تعظیمی ہوا کرتا تھا پھر بعد میں مجدّ د صاحب نے اس کو بند کرا دیا۔ کئی ولیوں کے زمانے میں سجدہ تعظیمی ہوا اور کئی ولیوں نے اس کو پسند بھی کیا۔ اب یہ مجدّ د  کے اوپر بات ہوتی ہے کوئی مجدّد کہتا ہے کہ سر کو ٹیکتا ہے تو ٹیکنے دو حوالے کرتا ہے تو کرنے دو، بقول علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ دانا خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے۔ اس کو خاک میں ملنے دو کئی لوگوں کا یہ نظریہ ہوتا ہے۔ مجد د جو ہوتا ہے نا کمی بیشی تھو ڑی بہت کر سکتا ہے۔ ایک مجدد آیا اُس نے کہا عورتیں درباروں پر نہیں جا سکتیں دوسرا آیا اُس نے کہا جا سکتی ہیں۔ اُس نے اپنے وقت کے مطابق کہا دوسرے نے اپنے وقت کے مطابق کہا، اعلیٰ حضرت نے منع کیا نہیں جا سکتیں۔ اُس وقت کوئی کالج نہیں تھے کوٕئی اسکول نہیں تھے عورتوں کے درباروں میں علیحدہ میلے لگتے تھے وہ میلوں میں جاتیں وہاں سے اغواء ہو جاتیں۔ اعلیٰ حضرت نے کہا اور کوئی رستہ نہیں تھا پھرآپ نے منع کر دیا۔ عورت نہیں جاسکتی ہے۔ اب درباروں میں جانے کی ضرورت کیا ہے اغواء ہونا ہوگا کالج سے ہو جائے گی، اسکول سے ہوجائے گی۔

 

شفقت حسین:- کہیں نہ جائے گی ۔ گھر سے ہو جائے گی۔

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں گھر سے ہو جائے گی اُس وقت یہ پابند یاں تھی نا۔ یہ مجدّد کو اختیارات ہوتے ہیں۔ سوال کیا تھا آپ کا؟

 

شفقت حسین:- سوال میرا یہ تھا کہ مطلب یہ کہاں تک درست ہے وہ آپ نے جواب دے دیا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- وہ میں نے دے دیا ہے رہا سوال آگے درباروں پہ جانا۔

 

شفقت حسین:- اور اُن سے مانگنا کس حد تک ٹھیک ہے

سیدنا گوہر شاہی:- میں آپ کو بتاتا ہوں آپ کے پاس یہ کاغذ  ہے ڈائری ہے جس نے آپ کو دی میں اُس سے بھی کہہ سکتا ہوں مجھے دلوا دو۔ میں آپ کو بھی کہہ سکتا ہوں مججھے دے دو کیوں جی؟ ﴿مسکراتے ہوئے﴾۔

 

شفقت حسین:-  واہ سبحان اللہ صیح بات ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- اور آپ کا مطلب ہے دینا۔ آپ مجھ سے پوچھتے ہو یا، یا ویسے ہی دے دو، یہ تمہارا اور اُس کا عمل ہے میرا تمارے ساتھ عمل ہے۔

 

شفقت حسین:- شاہ صاحب جسکی تصدیق میں وہ بات بھی تو جاتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ہجرت کی رات بستر پر سوئے تھے حضور صّلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے، تو قرآن پاک میں اس کا اسطرح ذکر کیا گیا ہے کہ اس شخص نے خدا کی رضائیں خرید لیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ جو رضائیں ہیں اللہ کی ان کا سودا ہو جاتا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- ایک مقام ہوتا ہے ولی کا۔ ہر ولی کا نہیں ہو سکتا ہے۔ تم کو اب جو یہ چیز، مالک تم کو وہ چیز دینی ہو مجھ سے پوچھ کر دے، ایسے لوگ بھی ہیں نا ایسے بھی لوگ ہیں مالک کہتا ہے جو تیرے سمجھ آئے دے دے۔ یہ ایک ولی کا مقام ہوتا ہے۔ راضیہ مرضیہ کا مقام ہوتا ہے یہ قرآن میں ہے پھر رب اُس سے راضی وہ رب سے راضی وہ جو راضیہ مرضیہ والے جو پہنچ جاتے ہیں نا اُن کو اللہ تعالیٰ اختیار دے دیتا ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- عوام کی معلومات کے لیے اوراپنی معلومات کے اضافے کے لیے آپکی خدمت میں میرا یہ سوال ہے کہ آپ نے اپنا زانوے ادب زانوے تکمیل کس بزرگ کے آگے تک فرمائیں؟

سیدنا گوہر شاہی:- مطلب میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر کے لیے ظاہر کا راستہ ملتا رہا باقی یہی رستہ ملا نا یہ دربار والوں سے ملا زیادہ میر ی تکمیل جو ہے نا اس، ابھی بھی چلہ ہے جہاں میں نے چلہ کیا نا کچھ پہاڑی پہ کیا وہاں بھی چلہ گاہ لکھا ہوا ہے تو جس لال باغ میں کیا وہاں بھی چلہ گاہ لکھا ہوا ہے لال باغ میں۔ دو سال ہم پہاڑوں میں رہے ایک سال ہم لال باغ میں رہے۔ پھر ہم کو حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم جو ہیں نا اپنے سامنے آئے اور یہ بہت کچھ ہمیں بتایا۔ جو کچھ ہم نے سیکھا نا حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سیکھا۔ اچھا اب لوگ کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ تو ختم ہو گئے ﴿معاذ اللہ﴾ کچھ لوگ اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ مکھی بھی نیں ہلا سکتے ﴿معاذ اللہ﴾ اور کچھ اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ حیات النبی صّلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں نہیں سمجھے؟ ہم حیات النبی صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قائل ہیں کیونکہ ہم کو اُن سے سبق حاصل ہوا ہے ہم نے اُن کو دیکھا ہے ہزاروں بار دیکھا ہے جو بھی ہم کو معلومات کرنی ہوتی ہے ہم اُنہی سے پوچھتے ہیں جا کے، اس لیے ہم کیسے کہیں وہ نہیں ہیں۔ ہمارے لیے تو وہ ہیں باقی جس نے نہیں دیکھا اُس کے لیے نہیں ہوں گے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا حضور والا مختلف مکاتب فکر کی جانب سے آپ کی تنظیم پر مذموم اور آپ کی ذات گرامی پر بہت ہی الزامات کی بو چھاڑ ہے آپ کا جو سلسلہ چل رہا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ جو لوگ آپ سے نہ ملیں آپ سے اُن سے ملاقات بھی نہ ہواور آپ کے بارے میں باتیں کریں۔

سیدنا گوہر شاہی:- اُن کا اپنا ایمان ہے کچھ بھی لکھ دیں۔

 

سید نعیم گیلانی:- ہماری تو ملاقات ہوگئی ہے ہم پر کچھ فرض عائد ہو گیا ہے کہ  جو کچھ ہم نے آنکھوں سے دیکھا اور جو کچھ ہمارے قلب نے محسوس کیا ہم تو ایمانداری سے لکھیں گے یہ صحافیوں پر فرض بھی ہوتا ہے لیکن پھر بھی آپ کی اجازت درکار ہے کہ آپ ہمیں اس بات کی اجازت دیں گے کہ جو کچھ ہم نے آپ سے ملاقات کے دوران قلبی طورپر محسوس کیا۔

سیدنا گوہر شاہی:- آپکو اختیار جیسا جی چاہے لکھو اور کچھ کیا جیسا جی چاہے لکھوإ جیسا جی چاہے لکھو۔ ہمیں پتہ تھا نا لوگ یہاں آئے ہوں گے۔

 

سید نعیم گیلانی:- جو کچھ ہم نے محفل میں دیکھا آپ کے عقیدت مندوں کا رویہ اُن کی نشستوں پر خاص۔

سیدنا گوہر شاہی:- آپ سب کچھ لکھیں بھلے جیسا چاہیں۔

 

سید نعیم گیلا نی:- آپ کی اجازت ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- نہ تعریف میں لکھیں اور نہ مخالفت میں جو حق چیز آپ نے دیکھی لکھیں۔

 

سید نعیم گیلانی:- اس کی اجازت ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں إ رہا سوال مخالفت کا وہ تکبیر کا آپ نے پڑھا ہوگا۔ وہ سب خواب کی باتیں ہیں اوروہ بھی دوسرے سے بات ہو رہی ہے ہمارے پہ الزام لگا دیا اب صحافی کو کہیں گے نا اُس نے غلط کیا آپ اُس کتاب ﴿روحانی سفر﴾ کا مطالعہ کریں نا۔

 

سید نعیم گیلانی:- اصل میں مسئلہ یہاں  پہ سرکار آ جاتا ہے کہ صحافت جو ہے نا وہ بھی فرقہ واریت میں چلی گئی ہے۔ 

سیدنا گوہر شاہی:- اعتماد ٹوٹ گیا نا۔

 

سید نعیم گیلا نی:- میں صحافی ہوں مجھے چاہیے کہ اگر میں کسی یہودی کا بھی انٹرویو لے رہا ہوں تو ایمانداری سے صیح بات لکھ دوں گر وہ حق بات کر رہا ہے تو کیونکہ اُس نے یہ بات صیح کہی اور یہودی جو ہے وہ یہ بات صیح کہہ رہا ہے۔ یاسر عرفات غلط کہہ رہا ہے  لیکن میں کروں گا یہ کہ اُسکی بات غلط لکھ دوں گا یاسر عرفات صاحب کی غلط بات کو صیح ثابت کروں گا۔

سیدنا گوہر شاہی:- زیادہ عرصہ ہو گیا ہے فرقہ واریت آگئی ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ سے ملایا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:-  صحافت میں زیادہ فرقہ واریت آگئی ہے۔

 

شفقت حسین:- میں تو آج کے اس دور کی صحافت جو ہے اُس کو گالی سمجھتا ہوں۔

سید نعیم گیلانی:- تھوڑا سا طریقت کے بارے میں ہمارے چھوٹے بھائی نے بہت سے سوالات کر لئے میں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ آپ کا تو یہ عوامی درس ہے اس لیے میں نے محسوس کیا کہ آپ آسان ترین طریقے سے جس طرح لوگوں کے قلب جاری فرماتے ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:- سمجھا نے کی کوشش کرتے ہیں صیح ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- آپ سمجھا دیتے ہیں تاکہ وہ آسان زبان میں سمجھ جائیں لیکن اہل تصوف کا جو علم کتابوں کے ذریعے عام ہے یا لائبریریوں میں موجود ہے۔ نقشبندی سلسلہ میں چشتی سلسلہ میں ذکر خفی، ذکر جلی وغیرہ کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اس میں جو سلسلہ ہمیں حضور اعلیٰ دائرہ عمل، دائرہ آمد، دائرہ خلق اس میں باقائدہ اُنہوں نے بتایا کہ یہاں یہ ذکر ہوگا فلاں نبی کا فیض آئے گا تمام انبیاء کرام کے فیوض اور اُن کے نور کا رنگ وغیرہ بھی لکھا ہوا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:- ہم نے پورا نقشہ دیا ہے اپنی کتاب ﴿مینا ر ہ نور﴾ میں لکھا ہوا ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- آپ کے یہاں یہی سلسلہ ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں یہ سلسلہ ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:-  یہ عام آدمی کے لیے آپ درس دیتے ہیں لیکن جو خاص آپ کے حلقے میں داخل ہوتے ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:- ان میں سے جن کے ذکر چل پڑتے ہیں نا تو پھر آگے کے لیے وہ آتے ہیں۔

 

سید نعیم گیلانی:-  اُن کے لیے کلاسز بڑھتی ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:-  کتاب ﴿مینارہ نور﴾ اُس میں ہم نے پورا لکھا ہوا ہے وہاں تک لکھا ہوا ہے دیدار تک۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا۔ آپ نے ابھی فرمایا اپنی کتاب میں کہ آپ بیعت نہیں فرماتے اُسکی کیا وجہ ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- اسکی وجہ ہے نا۔ بہت سے لوگ ہیں جو بیعت ہونا پسند نہیں کرتے ویسے ہی فیض چاہتے ہیں بہت سے لوگ ہیں جو کہیں سے بیعت ہیں اپنے پیر کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔

 

سید نعیم گیلانی:- طالب ہونا نہیں چاہتے؟

سیدنا گوہر شاہی:- اپنے پیر کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اور یہ قلب بھی جاری کرنا چاہتے ہیں۔

سیدنا گوہر شاہی:- قلب بھی جاری کرنا چاہتے ہیں اس وجہ سے ورنہ اگر ہم قادری ہیں نا۔ تو پھر کہیں گے یہ قادری ہے ہم کو بھی قادری ہونا پڑے گا۔ پھر اس وجہ سے ادھر آئیں گے نہیں نا۔ ہمارا مطلب ہے جو بھی آئے فیض حاصل کرے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا چھوٹا سا سوال وہ بھی عوام کے لیے۔ آپ کا نام ریاض احمد گوہر شاہی ہے۔ تو اس میں تخلص کہاں سے شروع ہوا تھا؟

سیدنا گوہر شاہی:- گوہر شاہی کا؟

 

سید نعیم گیلانی:- ریاض احمد تو اک نا م ہوگیا۔

سیدنا گوہر شاہی:-  گوہر شاہ ہمارے پڑنانا جو تھے اُن کا نام گوہر شاہ تھا گوہر علی شاہ۔

 

سید نعیم گیلانی:- عوام کے فائدے کی بات ہے اُن کو معلوم ہونا چاہیےإ

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں نہیں اُن کا نام تھا گوہر علی شاہ اب جس گاٴوں میں رہتے ہیں نا۔ اُس گاٴوں کا نام بھی ڈھوک گوہر شاہ۔

 

سید نعیم گیلانی:- یہ راولپنڈی کا علاقہ ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- جی ہاں گوجر خان، ڈھوک گوہر شاہ سے پھر گوہر شاہی اُس ڈھوک کا رہنے والا بھی سمجھ لیں اُنکی اولاد میں سے بھی سمجھ لیں۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا اس سلسلہ کو دراز کرنے کے لیے دنیا میں آئے ہیں تو جا نا بھی پڑے گا۔

سیدنا گوہر شاہی:- صیح ہے إ

 

سید نعیم گیلانی:- اس سلسلے میں آپ نے کیا تیاری فرمائی ہے اپنے عقیدت مندوں کے لیے ؟ آپ خلیفاٴوں کا طریقہ اپناتے ہیں، خلیفہ مقرر کرتے ہیں؟

سیدنا گوہر شاہی:- نہیں نام نہیں لیتے خلیفہ کا۔ خلیفہ کا، ہوتا خلیفہ ہی ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا اُن کو امیر وغیرہ  کچھ اورإ

سیدنا گوہر شاہی:- امیر وغیرہ بنا دیتے ہیں۔

 

سید نعیم گیلانی:- علاقے کا یونٹ انچارج وغیرہ۔

سیدنا گوہر شاہی:- جسطرح فرض کیا یہ ہے نا اس نے سارا علم سیکھ لیا نا اسکو کہیں گے تو فلاں علاقے جا لوگوں کو ذکر کا بتا اُن کو ذکر دے۔ بس کام ہی شروع کرنا ہے بھلے خلیفہ کہو بھلے امیر کہو مطلب کام سے ہے۔

 

سید  نعیم گیلانی:- ایک عام پاکستانی کے لیے گفتگو تو سب فرماتے ہیں آپ کیا پیغام دیں گے ہمارے رسالے کے ذریعے آپ کیا پیغام دیں گے ؟

سیدنا گوہر شاہی:- پیغآم اُن کے لیے یہی ہے کہ یہ وہ علم سیکھو جس سے اللہ کا عشق آتا ہے۔ ہمارا یہ پیغام ہے۔ روحانییت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔

 

سید نعیم گیلانی:- یہ بڑا متنازعہ سوال ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- اب میں بتا دیتا ہوں اگر کسی کافر کو اللہ اللہ میں لگاٴو مسلمان ہو جائے گا مسلمان کو اللہ اللہ میں لگاٴو مومن ہو جائے گا مومن کو اللہ اللہ میں لگاٴو ولی بن جائے گا۔

 

سید نعیم گیلانی:- یہ لکھیں، یہ لکھیں، لکھیں لکھیںإ اصل چیز تو یہ ہے جو گونج رہی ہے نا، کے تجربہ میں گونج رہی ہے وہ یہ کہ آیا ریاض احمد گوہرشاہی صاحب یہ کہاں سے فلسفہ لائے ہیں کہ میرے پاس سب آئیں۔ قائد اعظم کے مزار کے سامنے ایک بورڈ ہے اس میں لکھا ہوا کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہوإ

سیدنا گوہر شاہی:- جب حضور صّلی اللہ علیہ والہ وسلم آئے تھے تو حضور پاک صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مذہب تعلق بھی کسی فرقے سے نہیں تھا آپ صّلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بھی ہر فرقے مذہب والے آتے تھے نا۔ بھئی اُس وقت مسلمان کہاں تھا؟ مسلمان کہاں سے آتے تھے سارے ہنود ہی آتے تھے نا۔ تو پھر اُنہوں نے اُن کے سینوں میں نور پہنچایا۔ اُن کے سینوں میں نور پہنچایا۔ بعد میں مسلمان ہوتے نا میری نیت یہ ہے کہ کافر کو اللہ اللہ میں لگا لو مسلمان ہو جائے گا۔ مسلمان کو لگاٴو تو مومن بن جائے گا۔ مومن کو لگاٴو تو ولی بن جائے گا میری نیت تو یہ ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:-  یہ بہت وضاحت ہوگئی۔

سیدنا گوہر شاہی:- میں نے سکھوں کے گردوارے میں خطاب کیا اُسکی ویڈیو موجود ہے۔

 

شفقت حسین:- بڑی کلیئر سی بات ہے آنحضرت صّلی اللہ علیہ والہ وسلم

جب تشریف لائے تھے تو اپنا پرچار کیا تو۔

سیدنا گوہر شاہی:- مسلمان تو تھا کوئی نہیں ۔

 

شفقت حسین:- تو مسلمان تو تھا کوئی نہیں عیسائی ہنود تھے اور دوسرے تیسرے کمیونیٹیز تھیں تو جو جو اُن سے متاثر ہوتا گیا حلقہ بگوش اسلام ہوتا گیا تو جس اسٹائل میں اُس دور میں اسلام کی تبلیغ تھی اُسی اسٹائل میں آج بھی ہے۔

سیدنا گوہر شاہی:-  صیح ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اچھا آپ یہ اس سلسلہ کو تحریر کے ذریعے، کتابوں کے ذریعےإ

سیدنا گوہر شاہی:- آ ڈیو، ویڈیو، کتابیں، انگلش ترجمے بھی ہیں کتابوں کے۔

 

سید نعیم گیلانی:- باقاعدہ سلسلہ جاری ہے؟

سیدنا گوہر شاہی:- ہاں باقاعدہ سلسلہ جاری ہے۔

 

سید نعیم گیلانی:- اس کے لیے کچھ مرکز ہیں کہ لوگ رابطہ کر سکیں؟

سیدنا گوہر شاہی:- بے شمار، پاکستان میں سینکڑوں ہیں، بیرون ممالک میں بھی بے شمار ہیں امریکہ تک، کینڈا تک، برطانیہ تک۔

 

1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
info@gohar-shahi.com