SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

 روحانی خطابات اور نشستوں کیلیے کلک کریں

امام آخر زمانی حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد، مقدس پاکستا ن کی تکمیل، تیسری جنگ عظیم اور دُنیا کی مکمل تباہی﴿قیامت﴾ سے متعلق عالمی روحانی ہستی حضرت سید نا ریاض احمد گوہر شاہی مد ظلہ العالی کی پیشن گوئیاں۔

  ماہنامہ اجرک کی ٹیم کا عالمی روحانی شخصیت حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی سے ایک خصوصی انٹرویو

 
سُریانی زبان جو آسمانوں پر بولی جاتی ہے، فرشتے اور رب اسی زبان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ جنت میں آدم صفی اللہ بھی یہی زبان بولتے تھے، پھر جب آدم صفی اللہ اور مائی حوا دنیا میں آئے، عربستان میں آباد ہوئے۔ اُن کی اولاد بھی یہی زبان بولتی تھی، پھر آل کے دنیا میں پھیلاؤ کی وجہ سے یہ زبان عربی ،فارسی، لاطینی سے نکلتی ہوئی انگریزی تک جا پہنچی، اور اللہ کو مختلف زبانوں میں علیحدہ علیحدہ پکارا جانے لگا۔ آدم علیہ السلام کے عرب میں رہنے کی وجہ سے سریانی کے بہت سے الفاظ اب بھی عربی زبان میں موجود ہیں۔ جیسا کہ آدم کو آدم صفی اللہ کے نام سے پکارا تھا ۔ کسی کو نوح نبی اللہ، کسی کو ابراہیم خلیل اللہ، پھر موسیٰ کلیم اللہ، عیسیٰ روح اللہ اور محمد الرسول اللہ پکارا گیا۔ یہ سب کلمے سریانی زبان میں لوحِ محفوظ پر ان نبیوں کے آنے سے پہلے ہی درج تھے، تبھی حضور پاک نے فرمایا تھا کہ میں اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ اللہ مسلمانوں کا رکھا ہوا نام ہے، مگر ایسا نہیں ہے

حضرت محمد الرسول اللہ کے والد کا نام عبداللہ تھا ۔ جبکہ اس وقت اسلام نہیں تھا۔ اور اسلام سے پہلے بھی ہر نبی کے کلمے کے ساتھ اللہ پکارا گیا۔ جب روحیں بنائی گئیں تو ان کی زبان پر پہلا لفظ اللہ ہی تھا۔ اور پھر جب روح آدم کے جسم میں داخل ہوئی تو یا اللہ پڑھ کر ہی داخل ہوئی تھی۔ بہت سے مذاہب اس رمز کو حق سمجھ کر اللہ کے نام کا ذکر کرتے ہیں ۔ اور بہت سے شکوک و شبہات کی وجہ سے اس سے محروم ہیں۔

 

جو بھی نام رب کی طرف اشارہ کرتا ہے قابل ِتعظیم ہے۔

 

یعنی اللہ کی طرف رخ کر دیتا ہے۔ مگر ناموں کے اثر سے متفرق ہوگئے۔ حروفِ ابجد اور حروفِ تہجی کی رو سے ہر لفظ کا ہندسہ علیحدہ ہوتا ہے،یہ بھی ایک آسمانی علم ہے۔ اور اِن ہندسوں کا تعلق کُل مخلوق سے ہے۔بعض دفعہ یہ ہندسے ستاروں کے حساب سے آپس میں موافقت نہیں رکھتے۔ جس کی وجہ سے اِنسان پریشان رہتا ہے ۔ بہت سے لوگ اس علم کے ماہرین سے ستاروں کے حساب سے زائچہ بنوا کر نام رکھتے ہیں۔
جیسا کہ ابجد ( ا ، ب ، ج ، د ) (۱،۲،۳،۴) کے دس(۱۰) عدد بنتے ہیں۔ اسی طرح ہر نام کے علیحدہ اعداد ہوتے ہیں۔ جب اللہ کے مختلف نام رکھ دئیے گئے تو ابجد کے حساب سے ایک دوسرے سے ٹکراؤ کا سبب بن گئے۔ اگر سب ایک ہی نام سے رب کو پکارتے تو مذاہب جُدا جُدا ہونے کے باوجود، اندر سے ایک ہی ہوتے۔ پھر نانک صاحب اور با با فرید کی طرح یہی کہتے

سب روحیں اللہ کے نور سے بنی ہیں۔ لیکن اِن کا ماحول اور ان کے محلے علیحدہ ہیں


 

مزید تفصیلات کے لیے کتاب دینِ الٰہی کا مطالعہ کیجیے۔
 


لوگ کہتے ہیں رب عبادت سے ملتا ہے۔

 

ہم کہتے ہیں رب دل سے ملتا ہے


عبادت دل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے، اگر عبادت سے دل صاف نہیں ہوا۔ تو رب سے بہت دور ہے۔
حدیث: نہ عملوں کو دیکھتا ہوں، نہ شکلوں کو۔ بلکہ نیتوں اور قلوب کو دیکھتا ہوں۔
البتہ عبادت سے جنت مل سکتی ہے۔ لیکن جنت بھی رب سے بہت دور ہے۔
 

 

 

....نور بنانے کا طریقہ...

 

پرانے زمانے میں پتھروں کی رگڑ سے آگ حاصل کی جاتی تھی۔ جبکہ لوہے کی رگڑ سے بھی چنگاری اُٹھتی ہے۔ پانی پانی سے ٹکرایا تو بجلی بن گئی۔ اسی طرح انسان کے اندر خون کے ٹکراؤ یعنی دل کی ٹک ٹک سے بھی بجلی بنتی ہے۔ ہر انسان کے جسم میں تقریباً ڈیڑھ والٹ بجلی موجود ہے، جس کے ذریعے اس میں پھرتی ہوتی ہے۔

بڑھاپے میں ٹک ٹک کی رفتار سُست ہونے کی وجہ سے بجلی میں بھی اورچستی میں بھی کمی آجاتی ہے۔ سب سے پہلے دل کی دھڑکنوں کو نمایاں کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ڈانس کے ذریعہ، کوئی کبڈی یا ورزش کے ذریعہ اور کوئی اللہ اللہ کی ضربوں کے ذریعہ یہ عمل کرتے ہیں۔

جب دل کی دھڑکنوں میں تیزی آجاتی ہے پھر ہر دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ یا ایک کے ساتھ اللہ اور دوسری کے ساتھ ھو ملائیں۔ کبھی کبھی دل پر ہاتھ رکھیں، دھڑکنیں محسوس ہوں تو اللہ ملائیں، کبھی کبھی نبض کی رفتار کے ساتھ اللہ ملائیں۔ تصور کریں کہ اللہ دل میں جارہا ہے۔ اللہ ھو کا ذکر بہتر اور زود اثر ہے، اگر کسی کو ھو پر اعتراض یا خوف ہو تو وہ بجائے محرومی کے دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ہی ملاتے رہیں، ورد و وظائف اور ذکوریت والے لوگ جتنا بھی پاک صاف رہیں اُن کے لئے بہتر ہے۔

کہ: بے ادب، بے مراد .... با ادب ، با مراد

 

پہلا طریقہ

کاغذ پر کالی پنسل سے اللہ لکھیں، جتنی دیر طبیعت ساتھ دے روزانہ مشق کریں۔

ایک دن لفظ ا للہ کاغذ سے آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گاپھر آنکھوں سے تصور کے ذریعہ دل پر اُتارنے کی کوشش کریں۔
 

دوسرا طریقہ.... زیرو کے سفید بلب پر پیلے رنگ سے اللہ لکھیں، اُسے سونے سے پہلے یا جاگتے وقت آنکھوں میں سمونے کی کوشش کریں۔ جب آنکھوں میں آجائے تو پھر اُس لفظ کو دل پر اُتاریں۔

 

تیسرا طریقہ....یہ طریقہ اُن لوگوں کے لئے ہے جِن کے راہبر کامل ہیں اور تعلق اور نِسبت کی وجہ سے روحانی اِمداد کرتے ہیں۔ تنہائی میں بیٹھ کر شہادت کی انگلی کو قلم خیال کریں اور تصور سے دل پر اللہ لکھنے کی کوشش کریں، راہبر کو پکاریں کہ وہ بھی تمھاری انگلی کو پکڑ کر تمھارے دل پر اللہ لکھ رہا ہے۔ یہ مشق روزانہ کریں جب تک دل پر اللہ لکھا نظر نہ آئے۔

 

پہلے طریقوں میں اللہ ویسے ہی نقش ہوتا ہے، جیسا کہ باہر لکھا یا دیکھا جاتا ہے۔ پھرجب دھڑکنوں سے اللہ ملنا شروع ہوجاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ چمکنا شروع ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس طریقے میں کامل راہبر کا ساتھ ہوتا ہے، اس لئے شروع سے ہی خوشخط اور چمکتا ہوا دل پر اللہ لکھا نظر آتا ہے۔

 

دنیا میں کئی نبی ولی آئے، ذکر کے دوران بطور آزمائش باری باری، اگر مناسب سمجھیں تو سب کا تصور کریں جس کے تصور سے ذکر میں تیزی اور ترقی نظر آئے آپ کا نصیبہ اُسی کے پاس ہے۔ پھر تصور کےلئے اُسی کو چن لیں، کیونکہ ہر ولی کا قدم کسی نہ کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے، بے شک نبی ظاہری حیات میں نہ ہو۔

 

اور ہر مومن کا نصیبہ کسی نہ کسی ولی کے پاس ہوتا ہے۔ ولی کی ظاہری حیات شرط ہے۔ لیکن کبھی کبھی کسی کو مقدر سے کسی ممات والے کامل ذات سے بھی ملکوتی فیض ہوجاتا ہے، لیکن ایسا بہت ہی محدود ہے۔ البتہ ممات والے درباروں سے دنیاوی فیض پہنچاسکتے ہیں۔ اسے اویسی فیض کہتے ہیں اور یہ لوگ اکثر کشف اور خواب میں اُلجھ جاتے ہیں، کیونکہ مرشد بھی باطن میں اور ابلیس بھی باطن میں۔ دونوں کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔

 

فیض کے ساتھ علم بھی ضروری ہوتا ہے، جس کےلئے ظاہری مرشد زیادہ مناسب ہے، اگر فیض ہے، علم نہیں تو اُسے مجذوب کہتے ہیں۔ فیض بھی ہے، علم بھی ہے اُسے محبوب کہتے ہیں۔ محبوب علم کے ذریعے لوگوں کو دنیاوی فیض کے علاوہ روحانی فیض بھی پہنچاتے ہیں، جبکہ مجذوب ڈنڈوں اور گالیوں سے دنیاوی فیض پہنچاتے ہیں۔

 

اگر کوئی بھی آپ کے تصور میں آکر آپ کی مدد نہ کرے تو پھر گوہر شاہی ہی کو آزما کر دیکھیں۔ مذہب کی قید نہیں، البتہ ازلی بدبخت نہ ہو۔ بہت سے لوگوں کو چاند سے بھی ذکر عطا ہو جاتا ہے۔ اُس کا طریقہ یہ ہے، جب پورا چاند مشرق کی طرف ہو، غور سے دیکھیں، جب صورت ِ گوہر شاہی نظر آجائے۔ تو تین دفعہ اللہ اللہ اللہ کہیں، اجازت ہو گئی۔ پھر بے خوف و بے خطر درج شدہ طریقے سے مشق شروع کردیں۔ یقین جانیے، چاند والی صورت بہت سے لوگوں سے ہر زبان میں بات چیت بھی کرچکی ہے۔ آپ بھی دیکھ کر بات چیت کی کوشش کریں۔


 

(گوہر شاہی کا عقیدہ)

سب مذاہب کے نیکوں کاروں اور عابدوں کو ایک لائن میں کھڑا کر دیا جائے ، رب کو کہو، کس کو دیکھے گا؟

جس طرح تیری نظر چمکتے ہوئے ستاروں پر پڑتی ہے ، وہ مریخ ہو یا عطارد یا بے نام ستارہ، 
اِسی طرح رب بھی چمکتے دلوں کو دیکھتا ہے ، وہ مذہب والے ہوں یا بے مذہب۔
 

 
اگر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی
 

 

بِن عشق ِدلبر کے سچل، کیا کفر ہے کیا اسلام ہے

 


اذن ذکرِ قلب حاصل کریں
 

آپ مندرجہ بالا ویڈیو کو دیکھ کر بھی سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کے ساتھ الله‎ ھو الله‎ ھو الله‎ ھو
دہرا کر
 
ذکرِ قلب  کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی قسمت آزما سکتے ہیں

 

بہت سے لوگ ہیں جو کسی سلسلے سے ہونگے کہیں سے بیعت ہونگے ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے۔
 

 بیعت اپنی جگہ فیض اپنی جگہ لال شہباز قلندر  ابراہیم قادری مروندی سے بیعت تھے لیکن فیض صدرالدین سے حاصل کیا
 

وہاں سے چلے ملتان آگئے بہاﺅالدین ذکریا ملتانی سے پھر فیض حاصل کیا سیرابی نہ ہوئی پوری تو پھر دہلی چلے گئے
 

پھر بو علی قلندر سے فیض حاصل کیا پھر جب مڑ کے آئے تو سب کے سردار ہو گئے۔


اس لیے فیض حاصل کرنا کوئی ممانت نہیں ہے آپ نو (9 ) جگہ سے طالب ہو سکتے ہیں پیرو مرشد آپ کے وہی طالب نو (9 ) جگہ سے ہو سکتے ہیں پیرو مرشد آپکے وہی بعض لوگ ہونگے جن کو فیض ہو گا کہیں سے تھوڑا بہت فیض بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر ایک لائٹ جل رہی ہے اُس کو منور کر رہی ہے اگر ایک اور لائٹ جل جائے تو شاید اہل محلہ کو بھی منور کر دے


 

 

1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
   info@gohar-shahi.com